حاضر و ناظر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جو ہر جگہ موجود ہو اور ہر جگہ نظر رکھتا ہو، موجود و نگراں (خدا کے لیے بطور صفت مستعمل)۔ "چھوٹی عمر میں نصیحت اور تعلیم کا گہرا اثر دل پر ہوتا ہے . مثلاً خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔"      ( ١٩٣٤ء، حیات محسن، ١٠٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'حاضر' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی ہی سے مشتق اسم 'ناظر' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٥٠٠ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو ہر جگہ موجود ہو اور ہر جگہ نظر رکھتا ہو، موجود و نگراں (خدا کے لیے بطور صفت مستعمل)۔ "چھوٹی عمر میں نصیحت اور تعلیم کا گہرا اثر دل پر ہوتا ہے . مثلاً خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔"      ( ١٩٣٤ء، حیات محسن، ١٠٥ )